Sunday, 21 September 2014

مدینے کی حاضری

مدینے کی حاضری

حسنؔ حج کرلیا کعبے سے آنکھوں نے ضِیا پائی

چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رَستہ دل کے اندرہے
ذوق بڑھانے کا طریقہ

مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کا مقدّس سفرآپ کومبارَک ہو! راستے بھر دُرُود وسلام کی کثرت کیجئے اورنعتیہ اَشعار پڑھتے رہئے یا ہوسکے تو ٹیپ ریکارڈر پرخوش اِلحان نعت خوانوں کے کیسٹ سنتے رہئے کہ ان شآء اللہ عزوجل اس طرح ترقّیِ ذوق کے اسباب ہوںگے۔ مدینۂ پاک کی عَظَمت ورِفعَت کا تَصَوُّر باندھتے رہئے، اس کے فضائل پر غور کرتے رہئے۔اِس سے بھی ان شاءاللہ عزوجل آپ کا شوق مزید بڑھے گا
مدینہ کتنی دیر میں آئے گا:

مکّۂ مکرَّمہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کا فاصِلہ تقریباً 425کِلومیٹر ہے جسے عام دنوں میں بس تقریباً 5گھنٹے میں طے کرلیتی ہے مگر حج کے دنوں میں بعض مصلَحتوں کی بِنا پر رفتا رکم رکھی جاتی اور پہنچنے میں بس تقریباً 8تا10گھنٹے لے لیتی ہے۔ ’’ مرکزِ استِقبالِ حُجّاج ‘‘ پر بس رُکتی ہے، یہاںپاسپورٹ کا اِندِراج ہوتا ہے اور پاسپورٹ رکھ کر ایک کارڈ جاری کیا جاتا ہے جسے حاجی نے سنبھال کررکھنا ہوتا ہے، یہاں کی کاروائی میں بسا اوقات کئی گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں،صبر کا پھل میٹھا ہے۔عَنقریب آپ ان شآء اللہ عزوجل میٹھے مدینے کے گلی کوچوں کے جلوے لوٹیں گے ، جلدہی آپ گنبد خضرا کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔جُوں ہی دُور سیمسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف زادھا اللہ شرفا وتعظیما کے مِینارِ نور بار پُروقار پر نگاہ پڑیگی، سبز سبز گنبد نظر آئیگا ان شآء اللہ عزوجل آپ کے قلب میں ہَلچَل مچ جائیگی اور آنکھوں سے بے اِختیار آنسو چھلک پڑیں گے۔

سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے

صائم ؔکمالِ ضَبط کی کوشش تو کی مگر

پَلکوں کا حلقہ توڑ کر آنسو نکل گئے

ہَوائے مدینہ سے آپ کے مشامِ دماغ مُعطّرہورہے ہوں گے اور آپ اپنی رُوح میں تازَگی محسوس کر رہے ہوں گے، ہوسکے تو ننگے پاؤں روتے ہوئے مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کی فَضاؤں میں داخِل ہوں۔

جُوتے اُتار لو چلو باہوش باادب

دیکھو مدینے کا حسیں گلزار آگیا
ننگے پاؤں رہنے کی قرانی دلیل

اوریہاں ننگے پاؤں رَہنا کوئی خِلافِ شَرع فعل بھی نہیں بلکہ مقدَّس سَر زمین کا سَراسَر ادب ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ علی ٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ربّ عزوجل سے ہم کلامی کا شَرَف حاصل کیا تواللہ عزوجل نے ارشادفرمایا:

umrah

ترجَمۂ کنزالایمان:تو اپنے جُوتے اُتار ڈال ، بیشک تُو پاک جنگل طُویٰ میں ہے۔

سبحٰن اللہ عزوجل !جب طورِ سینا کی مقدّس وادی میں سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ علی ٰ نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو خود اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جُوتے اُتار لینے کا حکم فرمائے تو مدینہ تو پھر مدینہ ہے، یہاں اگر ننگے پاؤں رہا جائے تو کیوں سَعادت کی بات نہ ہوگی!کروڑوں مالکیوں کے پیشوا اور مشہور عاشقِ رسول حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۂ پاک زادھا اللہ شرفا وتعظیما کی گلیوں میں ننگے پیر چلا کرتے تھے۔ الطبقاتُ الکُبریٰ لِلشَّعرانی الجزء الاول ص ۷۶ )آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ مدینۂ منوَّرہزادھا اللہ شرفا وتعظیما میں کبھی گھوڑے پر سُوار نہ ہوتے، فرماتے ہیں:’’ مجھے اللہ عزوجل سے حیا آتی ہے کہ اُس مبارَک زمین کواپنے گھوڑے کے قدموں تلے رَوندوں جس میں اُس کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم موجودہیں ۔ (یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا روضۂ انور ہے)(اِحیائُ العلوم ج۱ ص ۴۸ )

اے خاکِ مدینہ!تُو ہی بتا میں کیسے پاؤں رکھوں یہاں

تُو خاکِ پا سرکار کی ہے آنکھوں سے لگائی جاتی ہے
حاضری کی تیاری:

حاضِری روضۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے مکان وغیرہ کا بندوبست کر لیجئے ، حاجت ہو توکھا پی لیجئے ، اَلغَرَض ہر وہ بات جو خُشُوع وخُضُوع میں مانِع ہو اُس سے فارِغ ہو لیجئے۔اب تازہ وُضُو کیجئے اِس میں مسواک ضَرور ہو بلکہ بہتر یہ ہے کہ غُسل کر لیجئے ، دُھلے ہوئے کپڑے بلکہ ہو سکے تو نیا سفید لباس ، نیا عمامہ شریف وغیرہ زیبِ تن کیجئے ، سُرمہ اورخوشبو لگالیجئے اور مُشک افضل ہے ، اب روتے ہوئے دَربار کی طرف بڑھئے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۲۲۳)
اے لیجئے!سبز گنبد آگیا:

اے لیجئے!وہ سبز سبز گنبد جسے آپ نے تصویروں میں دیکھا تھا، خیالوں میں چُوما تھا اب سَچ مُچ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے

اَشکوں کے موتی اب نِچھاوَر زائرو کرو

وہ سبز گنبدمَنبَعِ اَنوار آگیا

اب سَرجھکائے باادب پڑھتے ہوئے دُرُود

روتے ہوئے آگے بڑھو دَربار آ گیا

!ہاں!یہ وُہی سبز گنبد ہے جس کے دیدار کے لئے عاشقانِ رسول کے دِل بے قرار رہتے اور آنکھیں اَشکبار ہوجایا کرتی ہیں، خُدا عزوجل کی قسم !رَوْضَۂ رَسَولُ اللّٰہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عظیم جگہ دُنیا کے کسی مَقام میں تو کُجا جنَّت میں بھی نہیں ہے۔

فِردوس کی بُلندی بھی چُھوسکے نہ اِس کو

خُلدِ بریں سے اُونچا میٹھے نبی کا روضہ

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُالمدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’وسائلِ بخشش ‘‘ کے صَفحَہ 298کے حاشیے میں ہے:روضہ کے لفظی معنی ہیں: باغ ۔
شعر میں روضہ سے مُراد وہ حصۂ زمین ہے جس پر رَحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ معظّم تشریف فرما ہے ۔ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فُقہائے کرامرحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: محبوبِ داور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ انور سے زمین کا جو حصہ لگا ہوا ہے ، وہ کعبہ شریف سے بلکہ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ (دُرِّمُختَارج۴ ص ۶۲)
ہوسکے تو باب البقیع سے حاضر ہوں

اب سَراپا ادب و ہوش بنے، آنسو بہاتے یا رونا نہ آئے تو کم از کم رونے جیسی صورت بنائے بابِ بقیع پر حاضِر ہوں۔’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘عرض کر کے ذرا ٹھہر جایئے۔ گویا سرکارِ ذِی وَقارؔصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاہی دَربار میں حاضِری کی اِجازت مانگ رہے ہیں۔ اب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم کہہ کر اپنا سیدھا قَدَم مسجِد شریف میں رکھئے اور ہمہ تن ادب ہو کر داخلِ مسجدِ نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰ ٰۃ والسلام ہوں اِس وَقت جو تعظیم و ادب فرض ہے وہ ہر عاشقِ رسول کا دِل جانتا ہے۔ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زَبان، دِل سب خَیالِ غَیر سے پاک کیجئے اور روتے ہوئے آگے بڑھئے، نہ اردگرد نظریں گھُمایئے، نہ ہی مسجِد کے نَقش ونِگار دیکھئے، بس ایک ہی تڑپ، ایک ہی لگن اورایک ہی خَیال ہو کہ بھاگا ہوا مجرِم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پنا ہ میں پیش ہونے کے لئے چلا ہے۔

فچلا ہوں ایک مجرِم کی طرح میں جانِبِ آقا

نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ
نماز شکرانہ:

اب اگر مکروہ وَقْت نہ ہو اور غَلَبۂ شوق مُہْلَت دے تو دو دو رَکعَت تَحِیَّۃُ الْمَسْجِدو شکرانۂ بارگاہِ اَقدس ادا کیجئے، پہلی رَکْعَت میں الحمد شریف کے بعد
umrah

اور دوسری میں الحمد شریف کے بعدقُلْ ھُوَاللّٰہُ شریف پڑھئے
۔
سنہری جالیوں کے روبرو

اب ادب وشوق میں ڈوبے، گردن جُھکائے، آنکھیں نیچی کئے، رونے والی صورت بنائے بلکہ خود کو بزور رونے پر لاتے، آنسو بہاتے ، تھرتھراتے ، کپکپاتے ، گناہوں کی نَدامت سے پسینہ پسینہ ہوتے، سرکارِنامدارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فَضل وکَرَم کی اُمّید رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قَدَمَینِ شَرِیفَین کی طرف سے سُنَہر ی جالیوں کے رُوبَرُو مواجَھَہ(مُوا۔جَ۔ھَہْ) شریف میں( یعنی چِہرۂ مبارَک کے سامنے) حاضِر ہوں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مزارِ پُر اَنوار میں رُو بَقِبلہ جلوہ اَفروز ہیں، مُبارَک قدموں کی طرف سے حاضِر ہوں گے تو سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نِگاہِ بے کس پناہ براہِ راست آپ کی طرف ہوگی اور یہ بات آپ کیلئے دونوں جہاں میں کافی ہے۔ وَالحمدُللّٰہ ۔(بہارِ شریعت ج۱ص۱۲۲۴)

عمرے کا طریقہ

عمرے کا طریقہ
طواف کا طریقہ


) طرف رُکنِ یَمانی کی جانب حجرِ اَسْود کے قریب اِس طرح کھڑے ہوجائیے کہ پورا ’’حَجَرِ اَسوَد‘‘آپ کے سیدھے ہاتھ کی طرف رہے۔ اب بِغیر ہاتھ اُٹھائے اِس طرح طواف کی نیَّتکیجئے:

umrah

نیَّت کرلینے کے بعد کَعْبہ شریف ہی کی طرف مُنہ کئے سیدھے ہاتھ کی جانب اتنا چلئے کہ حَجَرِاَسْوَد آپ کے عَین سامنے ہو جائے۔( اور یہ معمولی سا سرکنے سے ہو جائے گا، آپ حجرِ اسود کی عین سیدھ میں آ چکے اِس کی علامت یہ ہے کہ دُور ستون میں جو سبز لائٹ لگی ہے وہ آپ کی پیٹھ کے بالکل پیچھے ہو جائے گی)

سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے

umrah

اب اگر ممکن ہو تو حَجَرِاَسْوَد شریف پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مُنہ رکھ کر یوں بوسہ دیجئے کہ آواز پیدا نہ ہو، تین بار ایسا ہی کیجئے۔سبحٰن اللہ عزوجل ! جھوم جائیے کہ آپ کے لب اُس مُبارَک جگہ لگ رہے ہیںجہاں یقیناً مدینے والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ہائے مبارَکہ لگے ہیں۔ مچل جائیے ….تڑپ اُٹھئے….اور ہوسکے تو آنسوئوں کو بہنے دیجئے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ ہمارے میٹھے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حَجَرِاَسْوَد پر لب ہائے مبارَکہ رکھ کر روتے رہے پھر اِلتِفات فرمایا (یعنی توجُّہ فرمائی) تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رورہے ہیں۔ اِرشاد فرمایا:اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! یہ رونے اور آنسو بہانے کاہی مقام ہے۔ (اِبن ماجہ ج۳ ص۴۳۴ حدیث۲۹۴۵)

رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں

ذِکْرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں

اِس بات کا خیال رکھیے کہ لوگوں کو آپ کے دَھکّے نہ لگیں کہ یہ قُوّت کے مُظاہَرہ کی نہیں،عاجِزی اور مسکینی کے اِظہار کی جگہ ہے۔ ہُجُوم کے سبب اگر بوسہ مُیَسَّر نہ آسکے تو نہ اوروں کو ایذا دیں نہ خود دَبیں کچلیں بلکہ ہاتھ یا لکڑی سے حَجَرِاَسوَد کو چُھو کر اُسے چُوم لیجئے، یہ بھی نہ بَن پڑے تو ہاتھوں کا اِشارہ کر کے اپنے ہاتھوں کو چُوم لیجئے، یہی کیا کم ہے کہ مَکّی مَدَنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مُبارَک مُنہ رکھنے کی جگہ پر آپ کی نگاہیں پڑرہی ہیں۔
حَجَرِاَسْوَدکوبوسہ دینے یا لکڑی یاہاتھ سے چھُوکر چُومنے یاہاتھوں کا اِشارہ کر کے انھیں چُوم لینے کو ’’اِستلام‘‘کہتے ہیں۔
فرمانِ مصطَفٰےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے: روزِ قیامت یہ پتَّھر اُٹھا یا جائے گا، اِس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُس کا اِ ستِلام کیااُس کے لیے گواہی دے گا۔
(ترمذی ج۲ص۲۸۶حدیث۹۶۳)

عمرے کا طریقہ

طواف کا طریقہ

) طرف رُکنِ یَمانی کی جانب حجرِ اَسْود کے قریب اِس طرح کھڑے ہوجائیے کہ پورا ’’حَجَرِ اَسوَد‘‘آپ کے سیدھے ہاتھ کی طرف رہے۔ اب بِغیر ہاتھ اُٹھائے اِس طرح طواف کی نیَّتکیجئے:
umrah
نیَّت کرلینے کے بعد کَعْبہ شریف ہی کی طرف مُنہ کئے سیدھے ہاتھ کی جانب اتنا چلئے کہ حَجَرِاَسْوَد آپ کے عَین سامنے ہو جائے۔( اور یہ معمولی سا سرکنے سے ہو جائے گا، آپ حجرِ اسود کی عین سیدھ میں آ چکے اِس کی علامت یہ ہے کہ دُور ستون میں جو سبز لائٹ لگی ہے وہ آپ کی پیٹھ کے بالکل پیچھے ہو جائے گی)
سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے
umrah
اب اگر ممکن ہو تو حَجَرِاَسْوَد شریف پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مُنہ رکھ کر یوں بوسہ دیجئے کہ آواز پیدا نہ ہو، تین بار ایسا ہی کیجئے۔سبحٰن اللہ عزوجل ! جھوم جائیے کہ آپ کے لب اُس مُبارَک جگہ لگ رہے ہیںجہاں یقیناً مدینے والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ہائے مبارَکہ لگے ہیں۔ مچل جائیے ….تڑپ اُٹھئے….اور ہوسکے تو آنسوئوں کو بہنے دیجئے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ ہمارے میٹھے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حَجَرِاَسْوَد پر لب ہائے مبارَکہ رکھ کر روتے رہے پھر اِلتِفات فرمایا (یعنی توجُّہ فرمائی) تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رورہے ہیں۔ اِرشاد فرمایا:اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! یہ رونے اور آنسو بہانے کاہی مقام ہے۔ (اِبن ماجہ ج۳ ص۴۳۴ حدیث۲۹۴۵)
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں
ذِکْرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
اِس بات کا خیال رکھیے کہ لوگوں کو آپ کے دَھکّے نہ لگیں کہ یہ قُوّت کے مُظاہَرہ کی نہیں،عاجِزی اور مسکینی کے اِظہار کی جگہ ہے۔ ہُجُوم کے سبب اگر بوسہ مُیَسَّر نہ آسکے تو نہ اوروں کو ایذا دیں نہ خود دَبیں کچلیں بلکہ ہاتھ یا لکڑی سے حَجَرِاَسوَد کو چُھو کر اُسے چُوم لیجئے، یہ بھی نہ بَن پڑے تو ہاتھوں کا اِشارہ کر کے اپنے ہاتھوں کو چُوم لیجئے، یہی کیا کم ہے کہ مَکّی مَدَنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مُبارَک مُنہ رکھنے کی جگہ پر آپ کی نگاہیں پڑرہی ہیں۔
حَجَرِاَسْوَدکوبوسہ دینے یا لکڑی یاہاتھ سے چھُوکر چُومنے یاہاتھوں کا اِشارہ کر کے انھیں چُوم لینے کو ’’اِستلام‘‘کہتے ہیں۔
فرمانِ مصطَفٰےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے: روزِ قیامت یہ پتَّھر اُٹھا یا جائے گا، اِس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُس کا اِ ستِلام کیااُس کے لیے گواہی دے گا۔
(ترمذی ج۲ص۲۸۶حدیث۹۶۳)
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?page_id=586#sthash.GUnk2JvZ.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

    صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
    اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
    یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
    حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
    ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
    مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
    سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
    چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
    حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
    زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
    دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
    اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
    سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
    پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
    اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
    تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
    بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
    مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
    سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
    اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
    مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
    جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
    کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
    دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
    جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
    ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
    غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
    رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
    سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
    طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
    عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
    عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
    گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
    وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
    مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
    سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
    سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
    اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
    اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
    سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
    حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
    اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
    شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
    حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
    جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
    سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
    جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
    حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
    مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
    مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
    مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
    عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
    جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
    مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
    اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
    اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
حسرت بھری صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
    اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
    یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
    حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
    ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
    مالِ حلال سے حج کروں گا ۔  صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
    اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
    یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
    حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
    ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
    مالِ حلال سے حج کروں گا ۔

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

حج و عمرے والے کیلئے نیّتیں

  • صِرْف رِضائے الٰہی عزوجل پانے کے لئے حج کروں گا
  • اِس آیتِ مبارکہ پرعمل کروں گا وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ ترجَمۂ کنزا لایمان : حج اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔
  • یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔ (پ۴، اٰل عمران: ۹۷) پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
  • حُضُورِاکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا
  • ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا
  • مالِ حلال سے حج کروں گا ۔
  • سفر حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔
  • چلتے وقت گھروالوں ، رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا
  • حاجت سے زائد تَوشہ(اَخراجات) رکھ کر رُفَقاء پرخرچ اور فُقَراء پر تصدُّق(یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔
  • دَورانِ سفر ذِکر ودُرُود سے دل بہلاؤں گا ۔
  • اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دُعا کرتا رہوں گا۔
  • سب کے ساتھ اچّھی گفتگو کروں گا ، اور حسبِ حیثیت مسلمانوں کو کھانا کِھلاؤں گا۔
  • پریشانیاں آئیں گی توصَبْر کروں گا ۔
  • اپنے رُفَقاء کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا،غصّے سے بچوں گا ، بے کار باتوں میں نہیں پڑوں گا ، لوگوں کی(ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
  • تمام خوش عقیدہ مسلمان عَرَبوں سے(وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آؤنگا۔
  • بِھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اَذ یَّت نہ پہنچے اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صَبْر کرتے ہوئے مُعاف کروں گا۔
  • مسلمانوں پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے ‘‘نیکی کی دعوت’’دے کر ثواب کماؤں گا۔
  • سفرکی سنّتوں اور آداب کا حتَّی الامکان خیال رکھوں گا
  • اِحْرام میں لَبَّیْک کی خوب کثرت کروں گا۔
  • مسجدینِ کَریْمَین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد )میں داخِل ہوتے وَقْت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گااور مسجد میں داخِلے کی دُعاپڑھوں گا۔اِسی طرح نکلتے وَقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہَرنکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
  • جب جب کسی مسجد خُصُوصاً مسجدینِ کَریْمَین میں داخِلہ نصیب ہوا،نفلی اعتِکاف کی نیّت کر کے ثواب کماؤں گا ۔
  • کعبۂ مُشَرَّفہ پر پہلی نظرپڑھے تو یہ دُعا پڑھیں پڑتے ہی دُرُودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔
  • دَورانِ طواف‘‘مُسْتَجاب’’پر(جہاں ستّر ہزارفِرِشتے دُعا پر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں وہاں) اپنی اور ساری امّت کی مغفِرت کیلئے دعا کروں گا۔
  • جب جب آبِ زم زم پیوں گا، ادائے سنَّت کی نیّت سے قبلہ رُو،کھڑے ہو کر،بِسمِ اللّٰہ پڑھ کر ،چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا ، پھر دُعامانگوں گا کہ وقتِ قَبول ہے۔
  • ملتزم سے لپٹتے وَقت یہ نیَّت کیجئے کہ محبت و شوق کے ساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قُرب حاصِل کر رہا ہوں۔
  • غلافِ کعبہ سے چمٹتے وَقت یہ نیّت کیجئے کہ مغفِرت وعافیت کے سُوال میں اِصرار کر رہا ہوں۔
  • رَمیِ جَمرات میں حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی مُشابَہَت ( یعنی مُوافَقَت)اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی سنّت پر عمل ، شیطان کو رُسوا کر کے مار بھگانے اور خواہِشاتِ نفسانی کو رَجْم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیّت کیجئے۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بالخصوص چھ مقامات یعنی صَفا، مَروہ، عَرَفات ، مُزدَلِفہ،جَمرۂ اُولیٰ،جَمرۂ وُسطٰی پر دعا کیلئے ٹھہرے ، میں بھی ادائے مصطَفٰے کی ادا کی نیّت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکِن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
  • طواف وسَعی میں لوگوں کو دھکّے دینے سے بچتا رہوں گا۔
  • عُلَماء ومشائخِ اہلسنّت کی زیارت و صُحبت سے بَرَکت حاصِل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفِرت کی دعا کرواؤں گا۔
  • عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نَمازِ پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
  • گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اورصِرف اچّھی صُحبت میں رہا کروں گا ۔
  • وا پَسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا ،نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنّتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔
  • مکّۂ مکرَّمہ اور مدینۂ منوَّرہ کے یاد گار مبارَک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
  • سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیَّتِ ثواب مدینۂ منوَّرہ کی زِیارت کروں گا۔
  • سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے دربارِ گُہَر بار کی پہلی حاضِری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس،سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سُرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
  • اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان :وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النساء:۶۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضرہوں اورپھراللہ سےمُعافی چاہیں ا ور رسول ان کی شَفاعت فرمائے تو ضَرور اللہ کوبَہُت توبہ قَبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شَہَنْشاہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضِری دوں گا۔
  • اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگُسار آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی با رگاہ ِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضِرہوں گاجس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا ، آنسو بہاتاحاضِر ہوتا ہے
  • سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اورذوق وشوق کے ساتھ درد بھری مُعتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
  • حکم قراٰنییٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ (پ۲۶،الحجرات:۲) (ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حُضُور بات چِلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چِلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو)پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کوپَست اور قدرے دھیمی رکھوں گا۔
  • اَسْئَلُکَ الشَّفاعۃَ یا رسولَ اللّٰہ (یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم!میں آپ کی شَفاعت کا سُوالی ہوں)کی تکرار کر کے شَفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
  • شیخین کَریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی عَظَمت والی بارگا ہوںمیں بھی سلام عرض کروں گا۔
  • حاضِری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اورسنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
  • جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی بارگاہ میں عَرْض کروں گا۔
  • سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
  • جنَّتُ البقیع کے مَدفُونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
  • حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اورشُہَدائے اُحُد کے مزرات کی زیارت کروں گا۔
  • مسجدِ قُبا شریف میں حاضِری دوں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کے در و دیوار ، بَرگ وبار،گل وخار اورپتَّھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا ۔
  • عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کوتُحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینۂ منوَّرہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔
  • جب تک مدینۂ منوَّرہ میں رہوں گا دُرُود و سلام کی کثرت کروں گا۔
  • مدینۂ منوَّرہ میں قِیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔
  • اگرجنَّتُ البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا، اورمدینۂ منوَّرہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں اَلوَداعی حاضِری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضِری کی التِجاکروں گا۔
  • اگر بس میں ہُوا ہو توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونے والےبچےکی طرح بِلک بِلک کر روتے ہوئے دربارِرسول کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?p=555#sthash.x0qs07N1.dpuf

Copyright @ 2014 Islam Ka Noor.